:
Breaking News

ہند۔میانمار تعلقات میں نئی مضبوطی، صدر من آنگ ہلائنگ کے دورۂ ہند سے دوطرفہ تعاون کو

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ اپنے پہلے سرکاری دورۂ ہند پر ہیں۔ نئی دہلی میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، ثقافتی روابط اور علاقائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ہندوستان اور میانمار کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ ان دنوں سرکاری دورے پر ہندوستان میں موجود ہیں۔ ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی شراکت داری کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نئی دہلی پہنچنے کے بعد میانمار کے صدر نے ہندوستان کے وزیر خارجہ S. Jaishankar سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون بڑھانے، علاقائی امن و استحکام اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہندوستان اور میانمار کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کو فروغ مل سکے۔

وزیر خارجہ جے شنکر نے ملاقات کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کے صدر کا مثبت رویہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم Narendra Modi اور میانمار کے صدر کے درمیان ہونے والی ملاقات مستقبل میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگی۔

ہندوستان اور میانمار کے تعلقات صرف سیاسی اور اقتصادی شعبوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی اور روحانی رشتہ بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر من آنگ ہلائنگ کے دورۂ ہند کا ایک اہم حصہ مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل رہا۔ نئی دہلی پہنچنے سے قبل انہوں نے بہار کے مقدس شہر بودھ گیا کا دورہ کیا اور Mahabodhi Temple میں حاضری دے کر عبادت کی۔

مہابودھی مندر بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے دنیا کے اہم ترین مقدس مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ میانمار سمیت متعدد بدھ ممالک کے عقیدت مند اس مقام کو غیر معمولی روحانی اہمیت دیتے ہیں۔ صدر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ بدھ ورثے اور ثقافتی رشتوں کی عکاسی کرتا ہے، جو صدیوں سے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہندوستان کی "ایکٹ ایسٹ پالیسی" میں میانمار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا تک ہندوستان کی رسائی میں میانمار ایک اہم پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے نئی دہلی مسلسل اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ میانمار کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور تزویراتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، رابطہ منصوبوں اور سرحدی علاقوں کی ترقی کے حوالے سے متعدد منصوبے زیر عمل ہیں۔

صدر من آنگ ہلائنگ کے اس دورے کے دوران اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے ہمراہ وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں نئی راہیں تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں ہندوستان اور میانمار کے درمیان مضبوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اقتصادی تعاون، سرحدی سلامتی، علاقائی رابطہ کاری اور ثقافتی تبادلے جیسے شعبوں میں بڑھتا ہوا اشتراک جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں استحکام اور ترقی کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔

میانمار کے صدر کا یہ دورہ 30 مئی سے 2 جون تک جاری رہے گا۔ یہ ان کا صدر بننے کے بعد پہلا دورۂ ہند ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کو امید ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں کئی اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: • لالو پرساد یادو روٹین طبی معائنے کے لیے سنگاپور روانہ • رابڑی دیوی کا سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے سے انکار • سمستی پور قتل کیس کا 24 گھنٹوں میں انکشاف

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *